بیجنگ (نیوز ڈیسک) ٹیکنالوجی کی ترقی اور میڈیا کے عام اور ہر ایک کی رسائی میں آجانے کے بعد نوعمر افراد ایسے ایسے خطرات سے دوچار ہوگئے ہیں کہ جن کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چین میں ایک بدقسمت باپ کو اس خطرے کا اس وقت پتہ چلا جب اس کی نوعمر بیٹی اس کا شکار ہوچکی تھی۔
چینی میڈیا کے مطابق گونگ نامی شخص کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ سے اس کی 13 سالہ بیٹی شیاﺅ کنگ کے رویے میں عجیب و غریب تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی تھیں۔ گونگ کے مطابق ان کی بیٹی اکثر دیر سے گھر آتی تھی، گھر والوں سے بات چیت بہت کم کرتی تھی اور اکھڑی اکھڑی نظر آتی تھی۔ گونگ نے بیٹی کے مسائل کو سمجھنے کیلئے اس کے موبائل فون کا جائزہ لیا تو WeChat میسجز دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ گونگ کو پتہ چلا کہ اس کی نوعمر بیٹی جسم فروشی کے کاروبار کا حصہ بن چکی تھی اور اس کے سامنے درجنوں ایسے میسج موجود تھے کہ جن میں شیاﺅ کی ایک دلال خاتون کے ساتھ شرمناک گفتگوموجود تھی۔
”تم نے پہلے والے شخص سے 2000 یوان لئے تھے، وہ جانتا ہے، لہٰذا وہ تمہیں ایک رات کے3000 یوان نہیں دے گا۔“
” تو پھر میں کتنے مانگوں؟“
”میرا خیال ہے وہ تمہیں رات کے 2000 یوان دے گا۔“
یہ اس گفتگو کا کچھ حصہ ہے جو شیاﺅ اور جین نامی دلال خاتون کے درمیان ہورہی تھی۔ گونگ نے جین کو میسج بھیج کر ایک جگہ ملاقات طے کی اور پولیس کو بھی اطلاع کرکے اسے گرفتا رکروادیا۔ پولیس کے مطابق شیاﺅ کے مڈل سکول کی مزید 5 سے 10 لڑکیاں جسم فروشی میں ملوث پائی گئی ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق گونگ نامی شخص کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ سے اس کی 13 سالہ بیٹی شیاﺅ کنگ کے رویے میں عجیب و غریب تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی تھیں۔ گونگ کے مطابق ان کی بیٹی اکثر دیر سے گھر آتی تھی، گھر والوں سے بات چیت بہت کم کرتی تھی اور اکھڑی اکھڑی نظر آتی تھی۔ گونگ نے بیٹی کے مسائل کو سمجھنے کیلئے اس کے موبائل فون کا جائزہ لیا تو WeChat میسجز دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ گونگ کو پتہ چلا کہ اس کی نوعمر بیٹی جسم فروشی کے کاروبار کا حصہ بن چکی تھی اور اس کے سامنے درجنوں ایسے میسج موجود تھے کہ جن میں شیاﺅ کی ایک دلال خاتون کے ساتھ شرمناک گفتگوموجود تھی۔
”تم نے پہلے والے شخص سے 2000 یوان لئے تھے، وہ جانتا ہے، لہٰذا وہ تمہیں ایک رات کے3000 یوان نہیں دے گا۔“
” تو پھر میں کتنے مانگوں؟“
”میرا خیال ہے وہ تمہیں رات کے 2000 یوان دے گا۔“
یہ اس گفتگو کا کچھ حصہ ہے جو شیاﺅ اور جین نامی دلال خاتون کے درمیان ہورہی تھی۔ گونگ نے جین کو میسج بھیج کر ایک جگہ ملاقات طے کی اور پولیس کو بھی اطلاع کرکے اسے گرفتا رکروادیا۔ پولیس کے مطابق شیاﺅ کے مڈل سکول کی مزید 5 سے 10 لڑکیاں جسم فروشی میں ملوث پائی گئی ہیں۔
0 comments:
Post a Comment